نئی دہلی 5جولائی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) کانگریس نے دھان کی کم از کم امدادی قیمت 200 روپے فی کوئنٹل بڑھانے کی حکومت کا اعلان کو جملہ بازی ور ’سیاسی لالی پاپ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چار سال میں کسانوں کی حالات بہت زیادہ خراب ہوئی ہے۔
پارٹی کے مرکزی ترجمان سرجے والانے نامہ نگاروں کو بتایا کہ امدادی قیمت کی جملہ بازی ہے ، یہ اونٹ کے منہ میں زیرہ جیسا ہے۔ وعدہ تھا کہ لاگت سے50فیصدی بڑھا کر امدادی قیمت دیں گے لیکن اب جملہ گڑھ کر دھوکہ دیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہامئی 2014 میں جملہ بازی کرکے مودی نے ملک کے کسان کی حمایت تو حاصل کرلی،مگر چار سالوں سے فصلوں پر کم از کم امدادی قیمت کے وعدہ کو کبھی پورا نہیں کیا ۔ابھی ہار کے دہانے پر کھڑی مودی حکومت ایک بار پھر سیاسی لا لی پاپ کے نئے جملے گڑھ رہی ہے۔سرجیوالا نے دعوی کیا کہ سچ تو یہ ہے کہ کسان کو 49 ماہ میں نہ امدادی قیمت ملی، نہ محنت کی قیمت اور نہ ہی قرض سے نجات ملی ،حتیٰ کہ پٹرول ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمت نے ان کی کمر اور ٹیڑھی کردی ۔کسان کہہ رہا ہے کہ صرف جملوں اور جھوٹ سے پیٹ نہیں بھر سکتا۔دراصل حکومت نے دھان کی کم از کم امدادی قیمت آج 200 روپے فی کوئنٹل بڑھا دیا ہے ، اس سے سرکاری خزانے پر 15 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کا بوجھ آئے گا۔ نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ کی اقتصادی معاملات سے متعلق کمیٹی نے آج 14 خریف فصلوں کے ایم ایس پی کی تجاویز منظور کی ہے ۔ حکومت نے یہ فیصلہ ایسے وقت لیا ہے جبکہ کسان پیداوار کی قیمت کم ہونے سے کسان پریشان ہیں اور عام انتخابات ایک سال میں ہونے والے ہیں۔